حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمد جواد فاضل لنکرانی نے قم میں مرکز فقہی ائمہ اطہار علیہم السلام کے زیر اہتمام منعقدہ سولہویں سالانہ شعری نشست ’’محبوبۂ خدا‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظیم شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ اس پروگرام میں علما، اساتذہ، ائمہ جماعت، طلبا اور اہل بیت علیہم السلام سے عقیدت رکھنے والے افراد نے شرکت کی، جبکہ شعرا نے اپنے کلام کے ذریعے بارگاہِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا میں عقیدت کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے فضائل میں پڑھے جانے والے اشعار اور ان کی یاد میں بہائے جانے والے آنسو انسان کی معرفت میں اضافے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ روایات کے مطابق، آپ کے 9 مبارک نام ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے اور ہر نام میں گہرے اسرار اور حقائق پوشیدہ ہیں۔ ان ناموں کے مفہوم اور ان سے وابستہ تعلیمات کا مطالعہ ضروری ہے۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی نے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کو لیلۃ القدر قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی حقیقت اور مقام کو مکمل طور پر سمجھنا انسانی بساط سے باہر ہے۔ اگر انسان قیامت تک آپ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے، تب بھی آپ کی حقیقی عظمت تک نہیں پہنچ سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادات کے مطابق، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا نور آسمانوں، زمین، کائنات اور فرشتوں کی تخلیق سے پہلے موجود تھا۔ آپ کی عبادت کا مقام بھی ایسا تھا کہ جب آپ عبادت کے لیے کھڑی ہوتی تھیں تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کے سامنے آپ پر فخر فرماتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ناموں، خصوصاً فاطمہ اور زہرا، میں خاص معانی اور معرفت کے پہلو پوشیدہ ہیں۔ آپ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ علامہ مجلسی نے فضائل سے متعلق روایات کی روشنی میں آپ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا تمام اولوالعزم انبیاء سے برتر قرار دیا ہے۔
آیت اللہ فاضل لنکرانی نے آخر میں تاکید کی کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا اور توسل کرنا چاہیے۔ آپ کو صحیح طور پر وہی پہچان سکتا ہے جو نبوت، امامت، ولایت اور قرآن کریم کی معرفت رکھتا ہو۔ اس لیے تعلیمی اداروں میں فاطمہ شناسی کو باقاعدہ فروغ دیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ اس تقریب میں قم کے گورنر، میئر، مسجد مقدس جمکران کے متولی اور دیگر سرکاری و مذہبی شخصیات نے بھی شرکت کی۔










آپ کا تبصرہ